یورپ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ خریدار بن گیا:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایک نئی عالمی رپورٹ کے مطابق یورپ گزشتہ پانچ برسوں میں دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا خطہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی بنیادی وجہ روس کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور یورپ کی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں ہیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران یورپی ممالک نے اسلحے کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس عرصے میں یورپ کی اسلحہ درآمدات گزشتہ پانچ سالہ دور کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق روس۔یوکرین جنگ کے بعد یورپی ممالک نے نہ صرف یوکرین کو فوجی مدد فراہم کی بلکہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کیا۔ کئی ممالک نے طویل عرصے تک دفاعی بجٹ میں کمی کے بعد اب فوجی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق عالمی اسلحہ درآمدات میں یورپ کا حصہ اب تقریباً 33 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اس سے پہلے تقریباً 12 فیصد تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں اسلحہ کی بڑھتی خریداری نے عالمی ہتھیاروں کی تجارت میں بھی تقریباً 10 فیصد اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ یورپی ممالک اپنی مقامی دفاعی صنعت کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ اب بھی بڑی تعداد میں امریکی ہتھیار خرید رہے ہیں۔ خاص طور پر جدید لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر اسلحہ درآمدات میں تقریباً 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم سعودی عرب اور قطر اب بھی دنیا کے بڑے اسلحہ خریدار ممالک میں شامل ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث آنے والے برسوں میں اسلحہ کی عالمی منڈی مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔



