تازہ ترینرشیا یوکرین

روس کے اندر یوکرینی ڈرون حملے، دفاعی کارخانہ اور فوجی تنصیب کو نشانہ بنانے کی اطلاعات

تازہ حالات رپورٹ

کیف / ماسکو: یوکرین کی جانب سے روس کے اندر گہرائی میں ڈرون حملوں کی تازہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق تمبوف اور وولگوگراد کے علاقوں میں دفاعی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

غیر ملکی میڈیا اور مقامی حکام کے بیانات کے مطابق 11 اور 12 فروری کی درمیانی شب یوکرینی ڈرونز نے تمبوف اوبلاست کے شہر میچورنسک میں واقع جے ایس سی “پروگریس” پلانٹ کو ہدف بنایا۔ یہ کارخانہ مبینہ طور پر جدید ہوابازی اور میزائل کنٹرول سسٹمز سمیت گیس و تیل پائپ لائن سے متعلق آلات تیار کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک صنعتی عمارت میں آگ کے شعلے دکھائی دیے، تاہم ان مناظر کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔

تمبوف کے گورنر یوگینی پرویشوف نے تصدیق کی کہ حملے میں دو افراد زخمی ہوئے اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم انہوں نے دفاعی پلانٹ کی حالت پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق امدادی اور سکیورٹی ادارے موقع پر موجود ہیں اور صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

ادھر وولگوگراد اوبلاست کے علاقے کوٹلوبان میں بھی ایک وزارتِ دفاع کی تنصیب کے قریب دھماکے اور آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ گورنر آندرے بوچاروف نے کہا کہ میزائل حملے کے بعد گرنے والے ملبے سے آگ بھڑکی، لیکن شہری آبادی کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی بستی کے مکینوں کو عارضی طور پر منتقل کیا گیا۔

یوکرینی جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی رات وولگوگراد کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔ کیف کا مؤقف ہے کہ روسی توانائی کے مراکز جنگی سرگرمیوں کی مالی معاونت کا ذریعہ ہیں، اس لیے وہ انہیں جائز فوجی اہداف سمجھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس کے اندر دور دراز تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ماسکو کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور جنگی لاجسٹکس پر دباؤ ڈالنا ہے۔ دوسری جانب روس ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیتا ہے اور اپنے فضائی دفاعی نظام کی مؤثریت پر زور دیتا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کے امکانات پر عالمی سطح پر بات چیت جاری ہے، تاہم زمینی اور فضائی محاذوں پر کشیدگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ آنے والے دنوں میں ان حملوں کے اثرات اور ممکنہ ردِعمل خطے کی صورتحال پر مزید اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button