
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ایسے وژن کو آگے بڑھاتے رہے ہیں جسے بعض حلقے ان کا “چالیس سالہ خواب” قرار دیتے ہیں۔ اس تصور کے تحت اسرائیل خطے میں اپنی سکیورٹی برتری اور سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

عرب اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی سیاسی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ یہ رہا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو خطے میں سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسی تناظر میں اسرائیل نے گزشتہ برسوں میں ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے خلاف مسلسل سفارتی اور عسکری اقدامات کی حمایت کی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران، اسرائیل اور عالمی طاقتوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عرب دنیا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک طرف بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال عرب دنیا کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے برسوں میں یہی تبدیلیاں طے کریں گی کہ خطے میں طاقت کا توازن کس کے حق میں جاتا ہے اور عالمی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔



