ایرانتازہ ترین

ایران-اسرائیل تصادم میں شدت، مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک لپیٹ میں آگئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں مختلف محاذوں پر حملوں، جوابی کارروائیوں اور سفارتی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

اسرائیل کے شہر تل ابیب اور بنی براک پر میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ بعض ذرائع کے مطابق حملوں میں کلسٹر میزائل استعمال کیے گئے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل نے ایک حساس سپلائی روٹ کو نشانہ بنایا، جو روس اور ایران کے درمیان توانائی یا لاجسٹک رابطے سے جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عراق میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کچھ رپورٹس میں امریکی فضائی نقصان کی تعداد زیادہ بتائی جا رہی ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا میں سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض ایرانی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی براہ راست مداخلت کی صورت میں خلیجی ممالک بھی اس تنازع کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

کویت، سعودی عرب اور دیگر خلیجی علاقوں سے بھی حملوں اور آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ قطر میں صورتحال نسبتاً پرسکون بتائی جا رہی ہے۔ ان واقعات نے پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایک 15 نکاتی فریم ورک کے تحت جنگ بندی اور مذاکرات کی تجویز دی ہے، جس میں ممکنہ طور پر ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کو بھی سفارتی رابطوں میں شامل کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خود کو اس تنازع میں برتری کی پوزیشن میں سمجھتے ہیں، جبکہ بعض امریکی اور اسرائیلی حلقوں میں اس پیش رفت پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی سیاسی شخصیات کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ایران میں حکومتی استحکام کو برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک بڑے علاقائی تصادم کی جانب اشارہ کر رہی ہے، جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور بین الاقوامی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button