
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
جدید جنگوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے، جہاں کم قیمت ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی مہنگے میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے، جہاں ایرانی ساختہ سستے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کے میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال معاشی اور عسکری دونوں حوالوں سے غیر متوازن ہے، کیونکہ ایک سستے ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے ایک ایسا میزائل استعمال کرنا پڑتا ہے جس کی قیمت ایک ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ اس فرق نے امریکی دفاعی پالیسی سازوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ کم لاگت اور مؤثر متبادل تلاش کریں۔
اسی مقصد کے تحت امریکہ میں مختلف دفاعی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس نئی نسل کے سستے میزائل تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔ ایک سابق ناسا انجینئر کی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ تقریباً 10 ہزار ڈالر کی لاگت سے ایسا میزائل تیار کر رہی ہے جو ڈرونز کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف جنگی اخراجات کو کم کرے گی بلکہ مستقبل کی جنگوں میں طاقت کے توازن کو بھی بدل سکتی ہے۔ کیونکہ ڈرونز اب صرف نگرانی تک محدود نہیں رہے بلکہ حملوں میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

حالیہ تنازعات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یوکرین جنگ، نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سستے ڈرونز بڑے اور مہنگے دفاعی نظاموں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں "کم لاگت دفاعی نظام” ایک نئی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل کی جنگیں صرف طاقت یا تعداد پر نہیں بلکہ لاگت اور ٹیکنالوجی کے توازن پر بھی منحصر ہوں گی۔ جو ملک کم خرچ میں مؤثر دفاعی حل تیار کرے گا، وہ میدان جنگ میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔
امریکی حکام بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ ماڈل طویل مدت تک قابل عمل نہیں، اور اسی لیے نئی حکمت عملی کے تحت سستے، تیز اور زیادہ مؤثر دفاعی ہتھیاروں کی تیاری پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈرون جنگ کا دور تیزی سے پھیل رہا ہے، اور اس کے مقابلے کے لیے روایتی مہنگے ہتھیاروں کے بجائے سمارٹ اور کم لاگت حل ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔



