ایرانتازہ ترین

ایران میں موساد کی سرگرمیوں پر بیجنگ پریشان، چین نے تہران سے تعاون بڑھا دیا

بیجنگ / تہران(تازہ حالات رپورٹ ): ایران کے اندر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے چین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ چینی عسکری و سکیورٹی حلقوں کے مطابق ایران میں مبینہ دراندازی، سائبر حملوں اور حساس تنصیبات تک رسائی کے واقعات کو جدید “انفارمیشن وارفیئر” یا معلوماتی جنگ کی نئی شکل قرار دیا جا رہا ہے۔

چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کے اندر خفیہ کارروائیوں، ڈیٹا بیس تک رسائی، ریڈار نظام کو متاثر کرنے اور اندرونی نیٹ ورکس کے ذریعے حملوں کی تیاری نے روایتی جنگی تصورات کو بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق اب میدانِ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر اسپیس، ٹیکنالوجی اور اندرونی ادارہ جاتی کمزوریوں تک پھیل چکا ہے۔

“نئی طرز کی خفیہ جنگ”

چینی دفاعی تجزیہ کار فو چیان شاؤ اور دیگر ماہرین نے ایرانی تنصیبات میں مبینہ دراندازی کو “نئی طرز کی انٹیلی جنس وارفیئر” قرار دیا ہے، جس میں کسی ملک کے دفاعی نظام کو براہِ راست حملے سے پہلے اندر سے کمزور کیا جاتا ہے۔

بیجنگ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر ایران جیسے سخت سکیورٹی ڈھانچے والے ملک میں ایسے نقائص سامنے آ سکتے ہیں تو یہی ماڈل دیگر ممالک کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ ممالک جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہیں۔

چین کا جوابی حکمتِ عملی

اطلاعات کے مطابق 2026 کے آغاز سے چین اور ایران کے درمیان سکیورٹی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی وزارتِ اسٹیٹ سکیورٹی کے تحت تکنیکی ماہرین نے ایرانی اداروں کے ساتھ مل کر سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل نظام اور داخلی سکیورٹی کے جائزے شروع کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بیجنگ تہران کو مغربی سافٹ ویئر کے متبادل کے طور پر چینی خفیہ کاری (انکرپٹڈ) نظام اپنانے کا مشورہ دے رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط کیا جا سکے۔ اسی طرح چین کے “بیڈو” نیویگیشن سسٹم کو جی پی ایس کے متبادل کے طور پر متعارف کرانے اور جدید ریڈار نظام فراہم کرنے کی بھی بات کی جا رہی ہے۔

چینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی براہِ راست عسکری اتحاد کا حصہ نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کی حکمتِ عملی ہیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ اور ایران کی اہمیت

ایران چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ مشرقی ایشیا کو مغربی ایشیا اور یورپ سے جوڑنے والا اہم جغرافیائی راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے سمندری راستے چین کی توانائی اور تجارتی سلامتی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

چین اور ایران کے درمیان 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدے کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر اور صنعت کے شعبوں میں طویل مدتی تعاون جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ کی کوشش ہے کہ سیاسی یا خفیہ دباؤ کے باوجود اقتصادی روابط متاثر نہ ہوں۔

سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش

چین نے بین الاقوامی فورمز پر ایران کی خودمختاری کی حمایت کی ہے، تاہم بیجنگ نے کسی براہِ راست فوجی مداخلت یا کھلے تصادم کا عندیہ نہیں دیا۔ چینی پالیسی ماہرین کے مطابق بیجنگ کی حکمتِ عملی “مقابلے کے بجائے مضبوطی” پر مبنی ہے، یعنی نظام کو اندر سے مستحکم کیا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button