
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش رکاوٹوں کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں ہیں، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
چینی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف سیکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اہم بحری راستوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
Strait of Hormuz عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو خام تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
چین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں استحکام نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے۔
دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں نے خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ بیان عالمی سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔



