
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین نے تائیوان کے قریب اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے پرانے جنگی طیاروں کو جدید حملہ آور ڈرونز میں تبدیل کر کے اہم فضائی اڈوں پر تعینات کر دیا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور ممکنہ تنازع کے خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے 1960 کی دہائی کے پرانے J-6 لڑاکا طیاروں کو بغیر پائلٹ ڈرونز میں تبدیل کر کے تائیوان آبنائے کے قریب کم از کم چھ فضائی اڈوں پر تعینات کیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان طیاروں کی قطاریں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر فوجیان اور گوانگ ڈونگ صوبوں میں موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین ان ڈرونز کو بڑی تعداد میں استعمال کر کے تائیوان کے دفاعی نظام کو بیک وقت متعدد اہداف سے نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کو "اوور وِیلمنگ ٹیکٹکس” کہا جاتا ہے، جس میں سستے مگر بڑی تعداد میں موجود ڈرونز کے ذریعے دفاعی نظام کو تھکا دیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پرانے طیارے جدید معیار کے مطابق نہیں ہیں، لیکن انہیں ڈرونز میں تبدیل کرنے سے چین کو ایک سستا اور مؤثر ہتھیار مل گیا ہے۔ اس کے برعکس، ان ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائل کافی مہنگے ہوتے ہیں، جس سے دفاعی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب تائیوان بھی اس خطرے کے پیش نظر اپنے دفاعی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں ڈرون جنگ جدید تنازعات کا ایک اہم پہلو بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی یہ حکمت عملی نہ صرف تائیوان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا چیلنج ہے، کیونکہ اس سے جنگی حکمت عملی کا انداز بدل رہا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر بھی غور سے دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایشیا پیسیفک خطے میں جغرافیائی کشیدگی پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس صورتحال میں مزید اضافہ ہوا تو یہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی سیاست اور دفاعی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔



