
ایران چین میں جنگی فوجی تعاون عروج پر ،امریکا کے خلاف چین کھل کر میدان میں آگیا
تہران/تازہ حالات خصوصی رپورٹ)تہران میں چین کے فوجی اتاشی کی جانب سے چین کے جدید ترین جے۔20 اسٹیلتھ فائٹر طیارے کا ماڈل ایران کی فضائیہ کے سربراہ کو پیش کیے جانے کے بعد ایران اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے ممکنہ نئے مرحلے سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
ایرانی دفاعی میڈیا کے مطابق یہ ماڈل ایران کی آرمی ایئر فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پائلٹ بہمن بہمرد کو ایک سرکاری اور علامتی تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ یہ تقریب 8 فروری کی مناسبت سے منعقد کی گئی، جو ایرانی فضائیہ کے اہلکاروں کی جانب سے انقلابِ ایران کے بانی امام خمینیؒ سے تاریخی بیعت کی یاد میں منائی جاتی ہے اور
ایران میں اسے یومِ فضائیہ کی حیثیت حاصل ہے۔
تقریب میں تہران میں تعینات مختلف ممالک کے فوجی اتاشیوں نے شرکت کی، تاہم دفاعی حلقوں کی توجہ خاص طور پر چینی فوجی اتاشی کی جانب سے جے۔20 فائٹر کے ماڈل کی پیشکش پر مرکوز رہی۔ عسکری مبصرین کے مطابق اس اقدام کو محض ایک سفارتی روایت سے بڑھ کر دیکھا جا رہا ہے، اور اسے ایران کو جدید چینی جنگی طیاروں کی ممکنہ فراہمی کا علامتی پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ اس حوالے سے تاحال کسی باضابطہ دفاعی معاہدے یا خریداری کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایران اور چین کے درمیان گزشتہ برسوں میں طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے دفاعی روابط میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں یہ سوال بھی مسلسل زیرِ بحث رہا ہے کہ آیا چین مستقبل میں ایران کو جدید فضائی جنگی پلیٹ فارمز فراہم کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران مغربی پابندیوں کے باعث اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے محدود ذرائع رکھتا ہے۔

ماضی میں بھی ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ جے۔20 فائٹر طیارہ ایران کے لیے ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے، تاہم ان خبروں کی کبھی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ تازہ پیش رفت نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے۔
چینی جے۔20 ایک پانچویں نسل کا اسٹیلتھ فائٹر طیارہ ہے، جسے چینگدو ایئرکرافٹ کارپوریشن نے تیار کیا۔ یہ طیارہ فضائی برتری کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف پر انتہائی درست حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے 2011 میں پہلی آزمائشی پرواز کی اور 2017 میں چینی فضائیہ میں عملی طور پر شامل کیا گیا۔ عسکری ماہرین کے مطابق جے۔20 کو دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے امریکی ایف۔22 اور ایف۔35 جیسے اسٹیلتھ فائٹرز کا
سنجیدہ حریف تصور کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی طیارے کے ماڈل کی پیشکش بذاتِ خود کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں ہوتی، تاہم ایسے اقدامات سفارتی اور عسکری سطح پر پیغامات دینے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے دفاعی روابط نہ صرف خطے کے تزویراتی توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں فضائی طاقت کے توازن میں بھی ممکنہ تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اگر ایران اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے آتی ہے تو یہ پیش رفت خطے کی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے لیے بھی خاص اہمیت اختیار کر
سکتی ہے



