
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں چین نے اپنے توانائی کے شعبے میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقامی ریفائنریوں کو ایندھن کی پیداوار برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کے اندر ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین کے سرکاری ادارے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) نے نجی یا آزاد ریفائنریوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی پیداوار گزشتہ دو برسوں کی اوسط سطح سے کم نہ کریں۔ یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب توقع کی جا رہی تھی کہ چھوٹی ریفائنریاں اپریل کے دوران خام تیل کی پروسیسنگ کم کر دیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین کے اندر ایندھن کی طلب نسبتاً کمزور رہی ہے۔ اس صورتحال میں کئی ریفائنریاں اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے پیداوار گھٹانے پر غور کر رہی تھیں۔

ذرائع کے مطابق حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریفائنریوں نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کے خام تیل درآمد کرنے کے کوٹے میں کمی کی جا سکتی ہے۔ چین میں آزاد ریفائنریوں کو مخصوص کوٹہ سسٹم کے تحت تیل درآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس کے ذریعے حکومت اس شعبے کو کنٹرول کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبہ شیڈونگ، جو چین میں ان آزاد ریفائنریوں کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، وہاں گزشتہ برسوں میں ریفائنریوں کی اوسط پیداواری صلاحیت تقریباً 50 فیصد کے قریب رہی۔ حالیہ مہینوں میں یہ شرح کچھ بہتر ہو کر 55 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق چین کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ عالمی سپلائی بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی یہ حکمت عملی نہ صرف اس کی اندرونی توانائی سیکیورٹی کو مضبوط کرے گی بلکہ عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم صورتحال کا انحصار خطے میں جاری کشیدگی کے مستقبل پر ہوگا۔



