تازہ ترینچین

تائیوان کے گرد چینی فوجی پروازیں چھ دن سے بند، اصل وجہ کیا ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): تائیوان کے قریب چینی فوجی طیاروں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلسل چھ دن تک چین کے کسی فوجی طیارے نے تائیوان کے فضائی دفاعی شناختی زون (ADIZ) میں پرواز نہیں کی، جسے ماہرین ایک غیر معمولی صورتحال قرار دے رہے ہیں۔

تائیوان کی سکیورٹی نگرانی کرنے والی تنظیم Secure Taiwan Associate Corporation (STA) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک چین کے تقریباً 460 فوجی طیارے تائیوان کے فضائی دفاعی زون میں داخل ہوئے ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد کم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف فروری کے مہینے میں تائیوان نے 190 چینی فوجی طیاروں کی پروازیں ریکارڈ کیں، جو 2022 کے بعد سے سب سے کم ماہانہ تعداد ہے۔ تائیوانی حکام طویل عرصے سے ان پروازوں کو بیجنگ کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے رہے ہیں۔

ممکنہ وجوہات کیا ہیں؟

سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس اچانک کمی کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک امکان یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متوقع ملاقات سے قبل ماحول کو نسبتاً پرسکون دکھانا چاہتے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر بات چیت کے لیے سازگار فضا پیدا ہو سکے۔

ایک تائیوانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق بیجنگ ممکنہ طور پر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے، جس سے عالمی سطح پر تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

فوج کے اندر اصلاحات بھی ایک وجہ؟

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے اندر جاری انسدادِ بدعنوانی مہم بھی اس کمی کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ ان اصلاحات کے باعث فوجی کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں جس سے عارضی طور پر آپریشنل سرگرمیوں میں کمی آ سکتی ہے۔

مکمل خاموشی نہیں

اگرچہ فضائی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، لیکن تائیوان کے دفاعی حکام کے مطابق چینی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے جہاز اب بھی تائیوان کے آس پاس کے پانیوں میں سرگرم ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ نے صرف حساس فضائی سرگرمیوں کو وقتی طور پر کم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند دن کی خاموشی کو مستقل پالیسی تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تائیوانی حکام کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ چین مستقبل میں بڑی فوجی مشق یا آپریشن کی تیاری کر رہا ہو۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق تائیوان کے گرد فضائی سرگرمیوں میں یہ وقفہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button