
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
عالمی سطح پر اہم معدنی وسائل کے حصول کی دوڑ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چین نے جمہوریہ کانگو کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کر لیا ہے، جبکہ امریکہ بھی اس شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کانگو، جو دنیا میں کوبالٹ کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، نے چین کے ساتھ ایک نیا تعاون معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کان کنی کے شعبے میں اشتراک کو وسعت دی جائے گی۔ اس معاہدے میں معدنی ڈیٹا کا تبادلہ، سرمایہ کاری کا تحفظ اور خام مال کی مقامی سطح پر پروسیسنگ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
چینی کمپنیاں پہلے ہی کانگو کے کان کنی کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، اور چین اس ملک کا سب سے بڑا قرض دہندہ بھی ہے۔ نئے معاہدے کے تحت کانگو اپنی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ صرف خام معدنیات کی فروخت پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ادھر چین نے افریقی ممالک کے لیے ڈیوٹی فری برآمدات کی سہولت بھی فراہم کی ہے، جس سے کانگو اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب امریکہ بھی اس شعبے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا اور اس نے کانگو کے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد معدنی سپلائی چین کو متنوع بنانا اور مغربی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان یہ مقابلہ دراصل مستقبل کی ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاعی صنعتوں کے لیے درکار اہم معدنیات جیسے کوبالٹ، لیتھیم اور کاپر پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگو اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھ کر اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ بیٹری ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور دفاعی نظاموں کے لیے ان معدنیات کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے کانگو کی عالمی اہمیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔



