
کوئی امریکی جہاز ایران کی سمندری حدود سے نہ گزرے !امریکا کاالرٹ جاری
(تہران/ تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکا ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے -امریکی جنگی بیڑہ ابراہم لنکن ایران کے قریب سمندر میں پوزیشن سنبھالے ہوئے ہے- امریکی بحری جنگی ڈسٹرائر جہاز ایران کے قریب یو اے ای کی بندرگاہ فجیرہ میں موجود ہے – آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والے امریکی تیل کے جہازوں کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں –
آج امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (MARAD) نے 9 فروری 2025 کو ایک ہنگامی Maritime Advisory جاری کی – جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل سے لدے ہوئے اور دیگر تجارتی امریکی جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رفتار تیز سے تیز رکھیں-ایران کے سمندری پانیوں سے نہ گزریں – کوشش کریں سلطنت عمان کی سمندری حدود سے گزریں – اگرایرانی فوج سپاہ پاسداران کسی جہاز کو تفتیش کے نام پر روکنے کی کوشش کرے تو نہ رکیں جب تک جہاز یا عملے کو نقصان کا خطرہ نہ ہو – کیوں کہ ایرانی بحریہ امریکی جہازوں کو پکڑ سکتی ہے –

یادرہے 3 فروری 2026 کو آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے لیے تیل لے جانے والےامریکی جہاز (سٹینا امپریٹو ) کو ایرانی مہاجر ڈرون اور ایرانی تیز رفتار مسلح کشتیوں نے روکنے کی کوشش کی تھی ، جس پر امریکی بحری جنگی جہاز اور فائٹر جیٹس نے فوری مداخلت کرکے اس آئل ٹینکر جہاز کو قبضہ ہونے سے بچا لیا تھا-

اس واقعے کے تین دن بعد ایران بحریہ کے ایک کمانڈر نے دو تیل کے جہازوں کو پکڑنے کا دعوی کیا تھا اور پندرہ رکنی عملے کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا تھا – ایرانی کمانڈر کے مطابق یہ دو جہاز تیل سمگل کررہے تھے جن کو پکڑا گیا –
- امریکا تین جہازوں میں فوج بھر کر ایران بھیج رہا ہے
- ایران کشیدگی کے بیچ خلیجی ممالک کی نئی حکمت عملی، سفارتکاری اور دفاع کا امتزاج
- ترک وزیر خارجہ نے ایران کو خبردار کر دیا، خلیجی حملوں پر سخت مؤقف
- ایران کا بڑا حملہ، ملٹی وارہیڈ میزائلوں سے اسرائیل اور امریکی اہداف نشانہ
- متنازع خلیجی جزائر پر ایرانی فوجی مشقیں، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
دوسری طرف امریکا کی طرف سے جاری ہونے والی اس اڈوائزری کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر 1 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوگیا – کیوں کہ دنیا کا 20 فیصد سے زائد تیل ایران کی سمندری حدود آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے – عالمی ماہرین کے مطابق اگر امریکا ایران میں جنگ ہوئی تو ایران آبنائے ہرمز بند کرکے تیل کی عالمی ترسیل میں خلل ڈال سکتا ہے جس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں –



