تازہ ترینچین

چین کی نئی آبدوزیں امریکہ کے لیے بڑا چیلنج، امریکی بحریہ نے خبردار کر دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکی بحریہ کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ چین تیزی سے جدید آبدوزیں تیار کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکہ کے لیے بڑا اسٹریٹجک چیلنج بن سکتی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق بیجنگ ایسی آبدوزیں تیار کر رہا ہے جن سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے جا سکیں گے اور یہ میزائل امریکہ کے بڑے حصوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

امریکی بحریہ کے کمانڈرز نے کانگریس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین اپنی زیرِ آب فوجی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق نئی آبدوزوں میں زیادہ طاقتور اور درست نشانہ بنانے والے میزائل نصب کیے جا رہے ہیں، جس سے چین کو اپنے ساحلوں کے قریب رہتے ہوئے بھی دور دراز اہداف تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے بحرالکاہل اور عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان زیرِ آب عسکری مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق چین کی یہ حکمت عملی اسے نہ صرف اپنے ساحلی علاقوں کے دفاع میں مدد دے سکتی ہے بلکہ وہ خطے سے باہر بھی اپنی عسکری موجودگی کو بڑھانے کے قابل ہو جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبدوزوں سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل کسی بھی ملک کی جوہری دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ انہیں تلاش کرنا اور روکنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اپنی بحری آبدوز فورس کو مسلسل جدید بنا رہی ہیں۔

چین پہلے ہی درجنوں ممالک کو اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان فروخت کرتا ہے اور گزشتہ برسوں میں اس نے اپنے دفاعی بجٹ اور ٹیکنالوجی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت عالمی توازنِ قوت کو متاثر کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر چین کی یہ نئی آبدوزیں مکمل طور پر فعال ہو جاتی ہیں تو اس سے امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر بحری دفاعی دوڑ میں تیزی آ سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button