
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین کی جانب سے نایاب معدنیات (ریئر ارتھ) کی برآمدات میں مجموعی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم امریکہ کو ہونے والی سپلائی میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات میں نئی تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی دو مہینوں میں چین نے ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 فیصد اضافہ کیا، جس کے تحت مجموعی برآمدات 10 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئیں۔ یہ معدنیات موبائل فونز، الیکٹرک گاڑیوں، جدید الیکٹرانکس اور دفاعی سازوسامان میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تاہم اسی عرصے میں امریکہ کو ہونے والی برآمدات میں تقریباً 22 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جو ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی اور سیاسی کشیدگی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
چین دنیا میں ریئر ارتھ عناصر کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، اور اس شعبے میں اس کی برتری اسے عالمی سپلائی چین میں ایک اسٹریٹجک حیثیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان معدنیات کی فراہمی عالمی صنعت، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب چین نے بعض حساس معدنیات، جیسے یٹریئم، پر برآمدی کنٹرول بھی عائد کر رکھے ہیں، جو دفاعی اور خلائی ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں ان کی محدود مقدار برآمد کی گئی، لیکن یہ سطح ماضی کے مقابلے میں کم ہی رہی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں امریکہ کو برآمدات میں کمی آئی، وہیں جرمنی، جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر ایشیائی و یورپی ممالک کو سپلائی میں اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اپنی تجارتی ترجیحات میں تبدیلی لا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان عالمی سطح پر سپلائی چین کی نئی تشکیل کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ممالک اپنی انحصاری کم کرنے اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی صدر کے چین کے دورے میں تاخیر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں تجارتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت پر اس کے گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں، کیونکہ ریئر ارتھ معدنیات جدید معیشت کی بنیاد تصور کی جاتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی تجارت اب صرف معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور جغرافیائی سیاست سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے، جہاں ہر بڑا ملک اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔



