
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران جنگ کے دوران ایک نئی اور غیر روایتی محاذ سامنے آیا ہے جہاں چینی نجی کمپنیاں امریکی فوجی نقل و حرکت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہیں، جس نے عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور اوپن سورس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں، بحری بیڑوں اور فضائی کارروائیوں کی تفصیلات جمع کر کے مارکیٹ میں فروخت کر رہی ہیں۔ ان معلومات میں امریکی ایئرکرافٹ کیریئر گروپس کی نقل و حرکت، مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی اور حملوں کی تیاری سے متعلق ڈیٹا شامل بتایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی مارکیٹ ہے جہاں نجی کمپنیاں سیٹلائٹ تصاویر، فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور شپنگ معلومات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کر کے قابلِ استعمال انٹیلی جنس میں تبدیل کر رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض چینی کمپنیوں کے فوجی اداروں سے روابط بھی ہو سکتے ہیں، جس کے باعث اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کمپنیوں نے حالیہ برسوں میں حکومتی پالیسی کے تحت تیزی سے ترقی کی ہے، جس کا مقصد نجی ٹیکنالوجی کو دفاعی شعبے میں استعمال کرنا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق کچھ کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کی تفصیل تک فراہم کی، جن میں بحری بیڑوں کی نقل و حرکت اور مختلف اڈوں پر طیاروں کی تعداد اور اقسام شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی معلومات دشمن کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا خود بھی حساس سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی محدود کر رہا ہے تاکہ معلومات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں معلومات اور ڈیٹا بھی ایک طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں۔
دوسری جانب چین نے باضابطہ طور پر ایران جنگ میں کسی براہِ راست مداخلت کی تردید کی ہے اور سفارتی سطح پر جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق نجی کمپنیوں کی سرگرمیاں ایک نئی قسم کی “ڈیجیٹل انٹیلی جنس وار” کو جنم دے رہی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگ اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں معلومات تک رسائی اور اس کا کنٹرول فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔



