امریکاتازہ ترین

سی آئی اے فیکٹ بک بند، عالمی معلومات کا بڑا ذریعہ ختم

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی مشہور “ورلڈ فیکٹ بک” کو اچانک بند کر دیے جانے کے بعد دنیا بھر میں طلبہ، محققین اور ماہرین تعلیم میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ فیکٹ بک گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے ممالک، جغرافیہ، معیشت، ثقافت اور فوجی معلومات کا ایک مستند اور مفت ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 4 فروری کو اس اہم ڈیٹا بیس کو اچانک بند کرنے کا فیصلہ کیا، جسے سی آئی اے نے اپنی بدلتی ترجیحات اور مشن کا حصہ قرار دیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی معلوماتی انتشار اور “متبادل حقائق” کے دور سے گزر رہی ہے۔

ورلڈ فیکٹ بک 1975 میں عوام کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، اور اس کا مقصد دنیا بھر کے ممالک کے بارے میں بنیادی اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنا تھا۔ اس میں نہ صرف سرکاری اعداد و شمار بلکہ ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کی معلومات بھی شامل ہوتی تھیں، جو طلبہ، صحافیوں اور پالیسی سازوں کے لیے انتہائی مفید سمجھی جاتی تھیں۔

انٹرنیٹ سے پہلے کے دور میں یہ کتاب تحقیق کا ایک بنیادی ذریعہ تھی، جسے بعد میں ڈیجیٹل شکل میں بھی مفت دستیاب کیا گیا۔ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اسے ایک معیاری حوالہ سمجھا جاتا تھا، جہاں سے لوگ مختلف ممالک کے بارے میں مستند معلومات حاصل کرتے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس فیکٹ بک کی بندش سے معلومات تک آسان رسائی کا ایک اہم ذریعہ ختم ہو گیا ہے۔ اگرچہ دیگر ذرائع موجود ہیں، لیکن ان میں اکثر یا تو مکمل نہیں ہوتے یا پھر بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، جس سے عام صارف کے لیے درست معلومات تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ معلومات مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں ہوتیں، کیونکہ ہر ریاستی ادارہ اپنے مفادات کے تحت ڈیٹا پیش کرتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود یہ فیکٹ بک ایک منظم اور قابلِ رسائی ڈیٹا بیس کے طور پر اپنی اہمیت رکھتی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیکٹ بک کی جڑیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی انٹیلی جنس ضروریات میں ملتی ہیں، جب امریکا کو دنیا بھر کے ممالک کے بارے میں جامع معلومات جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ ایک عوامی علمی ذریعہ بن گئی، جو نہ صرف معلومات فراہم کرتی تھی بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک نرم طاقت (soft power) کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیکٹ بک کی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر معلومات کی تصدیق ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، خصوصاً سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے دور میں۔ ایسے میں ایک مستند اور مرکزی معلوماتی پلیٹ فارم کا خاتمہ مزید الجھن پیدا کر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر “سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک” کا خاتمہ نہ صرف ایک ڈیٹا بیس کا اختتام ہے بلکہ ایک ایسے دور کا بھی خاتمہ ہے جہاں مستند معلومات ایک ہی جگہ پر آسانی سے دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس خلا کو کون پر کرے گا اور کیا مستقبل میں کوئی ایسا پلیٹ فارم سامنے آئے گا جو اسی سطح کی ساکھ اور رسائی فراہم کر سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button