سی آئی اے کی چینی فوجی افسران کو کھلی پیشکش، ’مواقع دیں گے‘: امریکی انٹیلی جنس حکمتِ عملی میں نیا موڑ

تازہ حالات رپورٹ
واشنگٹن: امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے چین کے “مایوس اور بددل” فوجی افسران کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ادارے نے مینڈرن زبان میں ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں چینی فوجی اہلکاروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ موجودہ نظام سے نالاں ہیں تو انہیں “بہتر مستقبل” کے لیے رابطہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ چینی حکومتی اہلکاروں اور شہریوں کو “مشترکہ بہتر مستقبل” کے لیے تعاون کا موقع دیتا رہے گا۔ ویڈیو میں ایک فرضی درمیانی سطح کے فوجی افسر کی کہانی دکھائی گئی ہے جو بدعنوانی اور اعلیٰ قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن سے مایوس ہو کر خفیہ طور پر رابطہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
پس منظر: کھویا ہوا نیٹ ورک اور نئی کوششیں
امریکی حکام کے مطابق 2010 کے بعد چین میں امریکی خفیہ نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا تھا جب ایک انسدادِ جاسوسی مہم کے دوران متعدد ذرائع بے نقاب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے نیٹ ورک کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال شروع کی گئی اسی نوعیت کی مہم سے کچھ حد تک نئے ذرائع حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس حلقوں کا کہنا ہے کہ چین کی فوجی قیادت میں حالیہ برطرفیوں اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں نے اندرونی بے چینی کو جنم دیا ہے، جسے واشنگٹن ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
شی جن پنگ کی مہم اور اندرونی تبدیلیاں
چین کے صدر شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد فوج اور بیوروکریسی میں وسیع پیمانے پر احتسابی مہم شروع کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو لاکھ سے زائد اہلکار مختلف الزامات کے تحت کارروائیوں کی زد میں آئے۔ حالیہ برسوں میں اعلیٰ فوجی قیادت میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، جنہیں مبصرین طاقت کے مزید ارتکاز کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہی اندرونی تبدیلیاں انٹیلی جنس کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہیں، اگرچہ چین طویل عرصے سے دنیا کے مشکل ترین انٹیلی جنس اہداف میں شمار ہوتا رہا ہے۔
سفارتی اور تزویراتی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق سی آئی اے کی یہ کھلی اپیل روایتی خفیہ حکمتِ عملی سے ہٹ کر ایک نفسیاتی اور اطلاعاتی حربہ بھی ہو سکتی ہے، جس کا مقصد بیجنگ پر دباؤ بڑھانا ہے۔ تاہم اس اقدام سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ چین اس پیش رفت پر کیا ردعمل دیتا ہے اور آیا یہ مہم عملی نتائج دیتی ہے یا محض سفارتی بیانیے کا حصہ ثابت ہوتی ہے۔



