
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) سوشل میڈیا اور بعض عبرانی ذرائع میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے تہران میں ایک حساس مقام سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی لاش کی مبینہ ویڈیو ریکارڈ کر کے براہِ راست اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کو بھیجی۔ ان رپورٹس میں اسے “غیر معمولی انٹیلی جنس پیش رفت” قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی ایران یا اسرائیل کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا میں ایسی اطلاعات کی تردید کی جا رہی ہے، جبکہ سرکاری سطح پر سپریم لیڈر کی سلامتی یا مقام کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

عبرانی ذرائع کے مطابق ویڈیو کسی میڈیا ادارے یا سوشل نیٹ ورک سے حاصل نہیں کی گئی بلکہ مبینہ طور پر ایک انٹیلی جنس اہلکار موقع پر موجود تھا۔ تاہم دفاعی اور سفارتی مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگی حالات میں اس نوعیت کے دعوے اکثر نفسیاتی جنگ یا معلوماتی مہم کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کی کوئی پیش رفت واقعی ہوئی ہو تو اس کے خطے پر گہرے سیاسی اور سیکیورٹی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں متضاد اطلاعات اور سرکاری تصدیق کے فقدان کے باعث حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم پہلو تصدیق شدہ معلومات کا انتظار اور غیر مصدقہ خبروں سے احتیاط برتنا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔



