
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ چند افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر مبینہ طور پر دونوں ممالک میں دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ کارلسن نے یہ دعویٰ اپنے پروگرام میں کیا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی سرکاری یا مصدقہ ذریعہ پیش نہیں کیا۔
کارلسن کے مطابق خلیجی حکام نے ان افراد کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ قطر اور سعودی عرب میں حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور علاقائی میڈیا میں اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے، لیکن متعلقہ حکومتوں کی جانب سے تاحال اس خبر کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں کے باعث خطے میں سکیورٹی خدشات اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں آرامکو کی ایک تنصیب پر ہونے والا حملہ دراصل ایران کی کارروائی نہیں تھا بلکہ اسے “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے کی توجہ ایران پر ہونے والے حملوں سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد ایران میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے جوابی حملے بھی جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مختلف دعوے اور الزامات سامنے آ رہے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔ خطے میں جاری جنگی ماحول کے باعث اطلاعاتی جنگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔



