اسرائیلتازہ ترین

جنوبی لبنان میں جھڑپیں، 4 اسرائیلی فوجی ہلاک؛

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں اسرائیلی فوج کو ایک بار پھر جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے مطابق تازہ کارروائی کے دوران چار فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے، جب کہ یہ جھڑپیں قریبی فاصلے پر لڑی گئیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان کے ایک حساس علاقے میں آپریشن کر رہی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات بتاتی ہیں کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں اینٹی ٹینک ہتھیاروں اور جدید جنگی حکمت عملی کا استعمال کیا گیا۔ اس اچانک حملے نے نہ صرف فورسز کو نقصان پہنچایا بلکہ ریسکیو آپریشن کو بھی پیچیدہ بنا دیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں زمینی جنگ کا انداز بدل چکا ہے، جہاں کھلے میدان کی لڑائی کے بجائے اب پہاڑی علاقوں اور تنگ راستوں میں قریبی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال میں حزب اللہ کو جغرافیائی برتری حاصل ہے، جس سے اسرائیلی پیش قدمی سست اور خطرناک ہو گئی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی اس تنازع کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں، یہاں تک کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے کو دوبارہ نہ چھیڑنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ سفارتی تبدیلیوں کی جانب اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری کارروائی کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن نہیں دے سکتے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اپنے "اہم اہداف کا نصف سے زیادہ” حاصل کر چکا ہے۔ ان کے مطابق فوجی آپریشن جاری رہے گا جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایک طرف جہاں اسرائیل زمینی محاذ پر دباؤ کا شکار ہے، وہیں سیاسی سطح پر بھی جنگ کے دورانیے اور نتائج سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ انسانی نقصان اور طویل جنگ کے خدشات اسرائیلی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنوبی لبنان کا محاذ نہ صرف فوجی بلکہ سیاسی اور سفارتی لحاظ سے بھی انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہر نئی جھڑپ خطے کے وسیع تر تنازع کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button