
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )عالمی دفاعی تجزیہ کاروں اور مغربی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران مستقبل کی ممکنہ جنگی حکمت عملی میں ڈرون سوارم (Swarm) یعنی بڑی تعداد میں خودکش ڈرونز کے بیک وقت حملوں کا منصوبہ اپنا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد دشمن کے مہنگے دفاعی نظام کو دباؤ میں لانا اور اسے طویل جنگ میں الجھانا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران گزشتہ چند برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی میں تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مختلف اقسام کے بغیر پائلٹ طیارے تیار کر چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم لاگت والے ڈرونز کو بڑی تعداد میں استعمال کر کے روایتی دفاعی نظام کو مصروف یا غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر درجنوں یا سینکڑوں ڈرون بیک وقت کسی فوجی اڈے، ریڈار سسٹم یا بحری جہاز کی طرف بھیجے جائیں تو انہیں روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس حکمت عملی کو “ڈرون سوارم” کہا جاتا ہے، جس میں ڈرونز ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے حملہ کرتے ہیں۔
دفاعی حلقوں میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد براہِ راست بڑے نقصان سے زیادہ دفاعی نظام کو تھکا دینا اور مہنگے میزائل دفاعی سسٹمز کو استعمال پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سادہ ڈرون کی قیمت چند ہزار ڈالر ہو سکتی ہے، جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا دفاعی میزائل لاکھوں ڈالر کا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں ڈرونز تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ تنازعات میں بھی ڈرون حملوں نے روایتی جنگی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے، جس کے باعث بڑی طاقتیں اب ڈرون دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی اور اتحادی دفاعی ادارے بھی ایسے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے نئے سسٹمز تیار کر رہے ہیں، جن میں لیزر ہتھیار، الیکٹرانک جیمنگ اور جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ڈرون ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں میں فیصلہ کن عنصر بن سکتی ہے، کیونکہ یہ نسبتاً کم لاگت کے باوجود بڑے اسٹریٹجک اثرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔



