امریکاتازہ ترین

سمندر پر کنٹرول ہی طاقت ہے: یوکرین کی کامیابی کی کہانی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

کیف: یوکرین جنگ کے دوران ایک اہم سبق سامنے آیا ہے کہ بعض اوقات سفارتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ فوجی طاقت بھی تجارتی راستوں کو کھلا رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تجربہ اب امریکا کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔

2022 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں یوکرین اور روس کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد بحیرہ اسود کے ذریعے یوکرین کی اہم زرعی برآمدات، خاص طور پر گندم، کو دوبارہ شروع کرنا تھا۔ یہ راستہ عالمی خوراک کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یوکرین دنیا کے بڑے زرعی برآمد کنندگان میں شامل ہے۔

ابتدائی طور پر اس معاہدے نے کچھ حد تک کامیابی حاصل کی، لیکن وقت کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ صرف سفارتکاری کافی نہیں۔ 2024 میں یوکرین نے جدید سمندری ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے روسی بحریہ کو اہم بحری راستوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال ہوئی اور برآمدات تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح تک پہنچ گئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جب کسی ملک کو اپنے اہم معاشی مفادات کا تحفظ درکار ہو تو وہ جدید ٹیکنالوجی اور محدود فوجی حکمت عملی کے ذریعے بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وسیع پیمانے پر زمینی جنگ چھیڑی جائے۔

اب یہی ماڈل امریکا کے لیے بھی زیر غور ہے، جہاں پالیسی ساز یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے اسی طرز کی حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے۔ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اور یہاں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، خاص طور پر بغیر پائلٹ کے سمندری نظام، مستقبل میں سمندری سلامتی کی حکمت عملیوں میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ ہر خطے کی صورتحال مختلف ہوتی ہے، اور کسی ایک ماڈل کو مکمل طور پر دوسرے خطے پر لاگو کرنا آسان نہیں۔

مجموعی طور پر یوکرین کی حکمت عملی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت اور سفارتکاری دونوں کا امتزاج ہی اکثر دیرپا نتائج فراہم کرتا ہے، اور یہی سبق آج کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button