امریکاتازہ ترین

مہنگی جنگ یا غلط فیصلہ؟انگریس رکن کی سخت تنقید

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں کانگریس کے سینئر ڈیموکریٹ رہنما ایڈم اسمتھ نے اس جنگ کو ایک مہنگی اور اسٹریٹجک طور پر ناکام فیصلہ قرار دیا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سرکردہ رکن ایڈم اسمتھ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ جنگ نہ صرف مالی طور پر بھاری پڑ رہی ہے بلکہ اس کے واضح اہداف بھی سامنے نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق بار بار کے فضائی حملے ایران پر دباؤ ڈالنے کے بجائے وہاں کے نظام کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کی جانب سے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسمتھ نے خبردار کیا کہ پہلے ہی امریکہ کا قرضہ تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے، اور ایسے میں دفاعی اخراجات میں بڑا اضافہ معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اس کے اخراجات کے لیے واضح حکمت عملی اور کانگریس کی باقاعدہ منظوری ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی اخراجات کو قرض کے ذریعے پورا کرنا ایک خطرناک رجحان ہے، اور اس کے بجائے شفاف طریقے سے مالی وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔

ایڈم اسمتھ کے مطابق ایران کے خلاف موجودہ حکمت عملی بھی سوالات کی زد میں ہے، کیونکہ مکمل فوجی کامیابی حاصل کرنا حقیقت پسندانہ نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا بنیادی مقصد صرف اپنی بقا اور امریکہ کو نقصان پہنچانا ہے، جو ایک نسبتاً آسان ہدف ہے، جبکہ امریکہ کے لیے مکمل فتح حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے عوامی ردعمل کو مزید سخت کر سکتے ہیں اور عوام کو حکومت کے قریب لا سکتے ہیں، جس سے مذاکرات کے امکانات مزید کم ہو جائیں گے۔

دفاعی ماہرین بھی اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ کسی بھی طویل جنگ میں صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر واضح اہداف اور اخراج کا منصوبہ نہ ہو تو جنگ طویل اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ کے اندر بھی ایران پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ آیا جنگ جاری رکھی جائے یا سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button