ایرانتازہ ترین

ایران میں خفیہ امریکی آپریشن بے نقاب، نائٹ اسٹاکرز کے ہیلی کاپٹر اور سی-130 تباہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران میں ایک خفیہ امریکی ریسکیو آپریشن کے بعد سامنے آنے والی نئی تصاویر نے اس مشن کی پیچیدگی اور خطرناک نوعیت کو مزید واضح کر دیا ہے، جہاں خصوصی فورسز کے زیرِ استعمال جدید طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو موقع پر ہی تباہ کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق یہ آپریشن ایک امریکی ایف-15 ای جنگی طیارے کے گرنے کے بعد اس کے ویپن سسٹمز آفیسر کو بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایران کے اندر ایک عارضی اور خفیہ ایئر بیس قائم کیا گیا، جو نہ صرف لینڈنگ پوائنٹ بلکہ ایندھن اور اسلحہ فراہم کرنے والے مرکز (فارورڈ آرمِنگ اینڈ ری فیولنگ پوائنٹ) کے طور پر استعمال ہوا۔

ذرائع کے مطابق اس مشن میں امریکی فضائیہ کے خصوصی سی-130 جے (MC-130J) کمانڈو طیارے شامل تھے، جو فوجی سازوسامان، کمانڈوز اور ہیلی کاپٹرز کو انتہائی کم وقت میں دشمن کے علاقے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم مشن کے دوران کم از کم دو سی-130 طیارے کسی تکنیکی خرابی یا ممکنہ نقصان کے باعث واپس اڑان بھرنے کے قابل نہ رہے، جس کے بعد انہیں وہیں تباہ کر دیا گیا۔

اسی مقام پر امریکی اسپیشل آپریشنز یونٹ "160th اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ” کے ایم ایچ-6 اور اے ایچ-6 "لٹل برڈ” ہیلی کاپٹرز کے جلے ہوئے ملبے کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹرز عام طور پر تیز رفتار، کم بلندی پر پرواز اور فوری کارروائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور انہیں چند منٹوں میں ٹرانسپورٹ طیاروں سے اتار کر فعال کیا جا سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے مشنز میں اے ایچ-6 ہیلی کاپٹرز کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، جو زمینی فورسز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری فضائی مدد دیتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہیلی کاپٹروں کو دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا یا انہیں بھی سی-130 طیاروں کی طرح جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔

امریکی فوجی حکمت عملی کے تحت اگر کوئی حساس ٹیکنالوجی یا سازوسامان دشمن کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہو تو اسے فوری طور پر تباہ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان میں جدید سینسرز، کمیونیکیشن سسٹمز اور دفاعی ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق یہ خفیہ لینڈنگ زون ایران کے شہر اصفہان کے جنوب میں واقع تھا، جو ساحلی علاقے سے تقریباً 200 میل اور زمینی سرحد سے 230 میل دور ہے۔ اس فاصلے کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ لٹل برڈ ہیلی کاپٹرز کا براہِ راست پرواز کر کے وہاں پہنچنا تقریباً ناممکن تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سی-130 طیاروں کے ذریعے ہی وہاں منتقل کیا گیا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آپریشن انتہائی محدود وقت میں ترتیب دیا گیا، جس میں ڈرون نگرانی، خصوصی کمانڈوز، عارضی ایئر بیس اور متعدد فضائی پلیٹ فارمز شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جدید فوجی تاریخ کے پیچیدہ ترین اور ہائی رسک مشنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگی آپریشنز میں صرف طاقت ہی نہیں بلکہ رفتار، خفیہ منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button