(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں بعض ماہرین اسے امریکی پالیسی کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دے رہے ہیں۔
معروف تجزیہ نگار جان گرے کے مطابق ایران میں امریکی فوجی کارروائی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک محدود آپریشن قرار دیا تھا، عملی طور پر ایک پیچیدہ بحران میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے مقاصد بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے، جس سے پالیسی میں عدم تسلسل واضح ہوتا ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے قبل کی صورتحال کو بحال کرنا اب ممکن نہیں رہا، اور امریکہ کو اب ایسے فیصلوں کا سامنا ہے جہاں مکمل کامیابی کا دعویٰ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس بحران کے بعد ایک مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر دوبارہ ابھر سکتا ہے۔
ادھر نیٹو اتحاد کے مستقبل پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی روس اور چین جیسے ممالک کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہونے کی بات کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ تیز ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس تنازع کو مزید وسعت دی، خصوصاً زمینی کارروائی کی صورت میں، تو یہ ماضی کی بڑی جنگوں سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال صرف جغرافیائی سیاست کا مسئلہ نہیں بلکہ فیصلہ سازی اور حکمت عملی کے انداز پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بحران عالمی طاقت کے توازن اور بین الاقوامی نظام کی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں طاقت، معیشت اور سفارتکاری کے درمیان توازن ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔