
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے آج مدینہ منورہ میں عالمی شہرت یافتہ خطاط شیخ عثمان بن عبدالحسین طہٰ سے ملاقات کی اور ان سے مصافحہ کیا۔ شیخ عثمان طہٰ وہ عظیم فنکار ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ سے قرآنِ مجید کی کتابت کر کے عالمِ اسلام میں منفرد مقام حاصل کیا۔ سعودی حکومت نے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں 2021 میں انہیں سعودی شہریت عطا کی تھی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
عثمان طہٰ 1934 میں شام کے شہر حلب کے نواحی علاقے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے اسلامی شریعت کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نامور شامی خطاطوں کی نگرانی میں خطاطی کا فن سیکھا۔ کم عمری ہی سے انہیں عربی خطاطی، خصوصاً خطِ نسخ میں غیر معمولی مہارت حاصل ہو گئی تھی۔

پہلا ہاتھ سے لکھا قرآن
انہوں نے پہلا مکمل قرآنِ مجید 1970 میں شامی وزارتِ اوقاف کے لیے تحریر کیا۔ ماہرین کے مطابق ایک مکمل قرآنِ مجید کی کتابت میں تقریباً تین سال کا عرصہ لگتا ہے، کیونکہ ہر حرف اور ہر زیر و زبر کو انتہائی احتیاط اور روحانی انہماک کے ساتھ تحریر کیا جاتا ہے۔
مدینہ منورہ میں خدمات
1988 میں وہ سعودی عرب منتقل ہوئے، جہاں انہیں مدینہ منورہ میں قائم کنگ فہد کمپلیکس برائے طباعتِ قرآنِ کریم میں بطور سرکاری خطاط مقرر کیا گیا۔ اسی سال سے وہ مسجد نبویؐ کے لیے بھی قرآن کی کتابت سے وابستہ رہے۔

شیخ عثمان طہٰ نے کنگ فہد کمپلیکس کے لیے چار مکمل نسخے تحریر کیے، جن کی بنیاد پر اب تک دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زائد قرآنِ مجید کے نسخے شائع اور تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک میں جو قرآنِ مجید چھپتا ہے، اس کی خطاطی عثمان طہٰ کے رسم الخط پر مبنی ہوتی ہے۔
خطاطی کا منفرد انداز
ان کے رسم الخط کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے ہر صفحے کا اختتام کسی مکمل آیت پر ہوتا ہے، جس سے قاری کے لیے تلاوت میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا خط نہایت واضح، متوازن اور اعراب و علاماتِ وقف کے ساتھ انتہائی درست سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے عالمی معیار تسلیم کیا گیا ہے۔

عالمی اعتراف
عثمان طہٰ کو جدید دور کا سب سے معروف کاتبِ قرآن کہا جاتا ہے۔ ان کی تحریر کو آج قرآنِ مجید کی طباعت کے لیے بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ فن کے مطابق انہوں نے نہ صرف خطاطی کو نئی بلندی دی بلکہ قرآنِ مجید کی خوبصورت اور معیاری اشاعت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
ولی عہد کی جانب سے ان سے ملاقات کو اسلامی فنون اور دینی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی ملی۔



