ایرانتازہ ترین

یونانی قبرص کا برطانوی فوجی اڈوں کے لیے نئے سیکیورٹی معاہدے کا مطالبہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات یورپ تک پہنچنے لگے ہیں، جہاں یونانی قبرص نے برطانیہ سے جزیرے پر قائم اس کے فوجی اڈوں کے سیکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کے لیے مذاکرات کی درخواست کر دی ہے۔ یہ پیش رفت حالیہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یونانی قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈس نے اس معاملے پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور فوجی تنصیبات کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قبرص چاہتا ہے کہ 1960 کے معاہدے کے تحت قائم برطانوی فوجی اڈوں کے سیکیورٹی فریم ورک کو موجودہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے۔

یہ فوجی اڈے، جن میں اکروتیری اور ڈیکیلیا شامل ہیں، برطانیہ کے زیرِ انتظام ہیں اور قبرص کی آزادی کے بعد سے ہی برطانوی خودمختاری میں ہیں۔ تاہم یونانی قبرص نے واضح کیا ہے کہ وہ برطانیہ سے ان اڈوں کی ملکیت واپس لینے کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ صرف سیکیورٹی انتظامات میں بہتری چاہتا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فوجی اڈوں کی حیثیت قابلِ مذاکرات نہیں ہے اور ان کی خودمختاری میں کسی تبدیلی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ برطانوی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قبرص کے ساتھ ان کے تعلقات مضبوط ہیں اور دونوں ممالک خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

حال ہی میں اکروتیری کے فوجی اڈے پر ہونے والے ایک ڈرون حملے سے معمولی نقصان ہوا تھا، جس کے بعد یورپی بحری افواج نے بھی ردعمل دیا۔ اس واقعے نے مشرقی بحیرہ روم میں فوجی تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اب دیگر خطوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، جہاں اسٹریٹیجک فوجی اڈوں کی اہمیت اور حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں مختلف ممالک اپنی سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی جغرافیائی سیاست میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ دفاعی حکمت عملی بھی مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، اور آنے والے وقت میں اس کے مزید اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button