
(تازہ حالات رپورٹ )
واشنگٹن: ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی فضائیہ نے اپنے طاقتور ترین غیر جوہری ہتھیاروں میں شمار ہونے والے GBU-57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر (MOP) بموں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری جزوی دستاویز کے مطابق فضائیہ نے بوئنگ کمپنی کو براہِ راست کنٹریکٹ دیا ہے تاکہ 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ان بنکر بسٹر بموں کی نئی کھیپ تیار کی جا سکے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے جون میں ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کے دوران درجن سے زائد ایسے بم استعمال کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے دوران 14 GBU-57 بم گرائے گئے، جس کے بعد امریکی فضائیہ کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس اسلحے کی فوری بحالی “انتہائی ضروری” ہے۔

GBU-57 کیا ہے؟
GBU-57 دنیا کے طاقتور ترین روایتی (غیر ایٹمی) بموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر زیرِ زمین بنکرز، مضبوط کنکریٹ ڈھانچوں اور گہرائی میں قائم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے عموماً امریکی B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔
بوئنگ کو براہِ راست کنٹریکٹ کیوں؟
دستاویز کے مطابق بوئنگ اس بم کی واحد تیار کنندہ کمپنی ہے، اسی لیے پینٹاگون نے کھلی بولی کے بجائے براہِ راست معاہدہ کیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ہتھیار کی حساس نوعیت اور فوری ضرورت کے پیشِ نظر مسابقتی عمل اختیار کرنا ممکن نہیں تھا۔

خطے میں پیغام؟
دفاعی ماہرین کے مطابق اس اقدام کو ایران کے لیے واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا اپنی اسٹریٹجک برتری برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم فوجی تیاریوں میں اضافہ کشیدگی کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔
ادھر امریکی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی بحالی “احتیاطی دفاعی حکمت عملی” کا حصہ ہے، جبکہ خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ خطرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔



