ایرانتازہ ترین

ایران میں جاسوسی پر سزائے موت، جنگ کے دوران سخت ترین قوانین نافذ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران نے جاری جنگی صورتحال کے دوران سیکیورٹی قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاسوسی یا “دشمن ریاستوں” سے تعاون کے الزامات پر سزائے موت سمیت سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ ملزمان کے اثاثے بھی ضبط کیے جائیں گے۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان کے مطابق نئے سخت اقدامات کے تحت نہ صرف براہِ راست جاسوسی بلکہ ایسی سرگرمیاں بھی سنگین جرم تصور کی جائیں گی جو دشمن کو مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ اس میں حساس مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا بھی شامل ہے، جسے انٹیلی جنس تعاون کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔

سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو مختلف الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر حساس مقامات کی ویڈیو بنانے، حکومت مخالف مواد شیئر کرنے یا دشمن سے تعاون کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس کشیدگی نے نہ صرف ہزاروں جانیں لی ہیں بلکہ توانائی کی عالمی سپلائی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قوانین گزشتہ سال منظور کیے گئے تھے، تاہم موجودہ جنگی حالات میں ان کا اطلاق مزید سختی سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون انٹیلی جنس، آپریشنل اور بعض میڈیا سرگرمیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر وہ سرگرمیاں جو امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک کے مفادات کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔

مزید برآں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ جھوٹی معلومات یا افواہیں پھیلانے والے افراد کو بھی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایسے اقدامات عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔ جنگی حالات میں ان جرائم کی سزاؤں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک تقریباً 200 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور سیکیورٹی ادارے مشتبہ افراد کی نشاندہی اور ان کے اثاثے ضبط کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان معاملات میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ سخت اقدامات داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی کوشش ہیں، تاہم اس سے شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے پر مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ اقدامات خطے کی مجموعی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button