اسرائیلتازہ ترین

اسرائیل میں نئی سرحدوں پر بحث تیز، لبنان میں توسیع کی تجاویز سامنے آگئیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان اور خطے میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کے دائیں بازو میں ایسے خیالات تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں جن میں شمالی سرحد کو بڑھا کر جنوبی لبنان کے دریائے لیتانی تک لے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو تصور پہلے غیر عملی یا محدود حلقوں تک تھا، اب وہ باقاعدہ سیاسی اور میڈیا مہم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں میں اسے اسرائیل کی طویل المدتی سکیورٹی کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ خیال نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں چند سال قبل ہونے والی بعض کانفرنسز اور مباحثوں تک جاتی ہیں، جہاں کچھ اسرائیلی شخصیات نے موجودہ سرحد کو “مصنوعی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کی جغرافیائی حد دریائے لیتانی تک ہونی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق اب یہ بیانیہ دائیں بازو کے سیاسی حلقوں میں زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے، اور “اُری تزافون” (شمال کی طرف بڑھو) نامی ایک تحریک اس سوچ کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان پر کنٹرول حاصل کیے بغیر اسرائیل اپنی سکیورٹی یقینی نہیں بنا سکتا، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خیالات اب صرف سماجی یا نظریاتی حلقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے بعض ارکان بھی کھل کر جنوبی لبنان تک پیش قدمی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مکمل کنٹرول ہی طویل مدتی امن کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دائیں بازو کے میڈیا اور بعض عوامی شخصیات اس جنگ کو ایک “تاریخی موقع” کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس کے ذریعے نئی زمینی حقیقت قائم کی جا سکتی ہے۔ اس بیانیے میں سخت الفاظ جیسے “بے دخلی” کی جگہ نسبتاً نرم اصطلاحات جیسے “دوبارہ آبادکاری” استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے پالیسی کو نرم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں بعض سرویز، اگرچہ غیر واضح ذرائع پر مبنی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دائیں بازو کے ووٹرز میں جنوبی لبنان میں بفر زون قائم کرنے یا علاقے کو ضم کرنے کے خیال کی حمایت موجود ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے مرکزی میڈیا میں ان خیالات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اور انہیں اکثر نظر انداز یا غیر اہم سمجھا جاتا ہے، جب تک کہ یہ عملی اقدامات کی شکل اختیار نہ کر لیں۔ تاہم عوامی سطح پر سکیورٹی خدشات کے باعث ایسے اقدامات کو کسی حد تک قبولیت بھی حاصل ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی میڈیا اور بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل خطے میں جاری افراتفری سے فائدہ اٹھا کر زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ کچھ مبصرین کے مطابق جنگی حالات اکثر ایسے اقدامات کو پس منظر میں لے جاتے ہیں جن کے اثرات بعد میں نمایاں ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض تجاویز میں صرف فوجی کنٹرول ہی نہیں بلکہ ایسے علاقوں کی تشکیل بھی شامل ہے جہاں آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو محدود کر دیا جائے، جو انسانی اور سیاسی سطح پر بڑے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ خیالات موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسرائیلی قیادت، خصوصاً وزیرِاعظم کی سطح پر، ان تجاویز کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button