ایرانتازہ ترین

جنیوا میں سفارتکاری، آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں: ایران دو محاذوں پر متحرک

(تازہ حالات رپورٹ )تہران

ایک جانب ایرانی سفارتی وفد جنیوا میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے، تو دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نیوی نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑے پیمانے پر لائیو فائر فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مشقوں کو “سمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایران کے اسٹریٹیجک جزیروں کے اطراف جاری ہیں۔ ان کی براہِ راست نگرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد پاکپور کر رہے ہیں۔

آئی آر جی سی نیوی کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے مشقوں کے پہلے مرحلے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے جزائر ایران کے لیے “ناقابلِ تسخیر قلعے” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ان علاقوں کا دفاع پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی ذمہ داری ہے۔

امریکی عسکری سرگرمیوں کے سائے میں مشقیں

یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ہزاروں اضافی اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے بیانات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاری اور عسکری تیاری بیک وقت جاری ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشقوں کے دوران جدید میزائل پلیٹ فارمز، ڈرونز اور زیرِ آب یونٹس کا استعمال کیا گیا۔ ایڈمرل تنگسیری کے مطابق کچھ جدید ہتھیار اور حربے منظر عام پر نہیں لائے گئے اور انہیں “ضرورت کے دن” کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔

سفارتکاری اور طاقت کا توازن

ایران نے ایک طرف مذاکرات میں “منصفانہ معاہدے” کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی تیاری کو دفاعی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کا پیغام واضح ہے کہ وہ بات چیت بھی چاہتا ہے اور دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری طور پر بھی تیار ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی موجودگی اور ایرانی مشقوں نے صورتحال کو حساس بنا دیا ہے۔ اب نگاہیں جنیوا مذاکرات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی پیش رفت کشیدگی کم کر پاتی ہے یا آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکزی محاذ بن جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button