ایرانتازہ ترین

ہرمز میں رکاوٹ، ایران کی شرائط نے عالمی تجارت کو روک دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج فارس کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تاحال معمول پر نہیں آ سکی، جہاں ایران کی جانب سے عائد نئی شرائط نے عالمی شپنگ انڈسٹری کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود عملی طور پر سمندری تجارت شدید دباؤ کا شکار ہے اور بحری آمدورفت انتہائی محدود سطح پر جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے سخت قواعد متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت جہازوں کو پیشگی اجازت، مکمل معلومات کی فراہمی اور مخصوص راستوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گزرنے کے لیے بھاری فیس یا ٹول بھی لیا جا رہا ہے، جس سے شپنگ کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد محدود پیمانے پر کچھ جہاز گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر ٹریفک اب بھی معمول سے بہت کم ہے۔ کئی بڑی شپنگ کمپنیاں، جن میں عالمی سطح کی کنٹینر اور آئل ٹرانسپورٹ کمپنیاں شامل ہیں، ابھی تک مکمل آپریشن بحال کرنے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ سکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔

مزید برآں، حالیہ کشیدگی کے دوران ہزاروں جہاز اس خطے میں پھنس کر رہ گئے تھے، جبکہ سینکڑوں ٹینکرز اب بھی انتظار کی پوزیشن میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی بڑھتی ہوئی گرفت نے اسے اس اہم سمندری راستے پر نمایاں اثر و رسوخ دے دیا ہے، جس کے باعث وہ نہ صرف بحری آمدورفت کو کنٹرول کر رہا ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتیں اور تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مکمل بحالی کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ واضح اور قابلِ اعتماد سکیورٹی فریم ورک بھی ضروری ہوگا۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے، اور اب یہ راستہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی دباؤ کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button