
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں تقریباً 2,500 امریکی میرینز پر مشتمل ایک خصوصی دستہ خطے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ یونٹ تیزی سے کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ دستہ، جسے عموماً امریکہ کی "911 فورس” کہا جاتا ہے، بحری، فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ یونٹ جزائر پر اچانک حملے، جہاز سے ساحل تک آپریشنز اور ڈرون خطرات کے خلاف حفاظتی اقدامات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو موجودہ صورتحال میں انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ ہفتوں میں شدید کشیدگی کا مرکز بن چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے متعدد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا یا ان کی نقل و حرکت کو متاثر کیا، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی میرینز کی تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن زمینی کارروائی کے امکان کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتا۔ اگر ضرورت پڑی تو یہ فورس اہم جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے اور سمندری راستوں کو کھولنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

یہ دستہ جدید جنگی جہاز USS Tripoli پر سوار ہے، جو بیک وقت لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر فوجی سازوسامان کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر بحری جہاز بھی موجود ہیں جو حملہ آور اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کریں گے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر زمینی کارروائی شروع ہوتی ہے تو یہ تنازع مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کا محدود جغرافیہ اسے ایک حساس جنگی زون میں تبدیل کر سکتا ہے، جہاں ڈرونز اور میزائل حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



