امریکاتازہ ترین

کیا ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے امریکا کے پاس کافی ’بنکر بسٹر‘ بم ہیں؟

(تازہ حالات رپورٹ )

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے 30 ہزار پاؤنڈ وزنی جدید ’میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر‘ (MOP) بنکر بسٹر بموں کی ہنگامی بنیادوں پر نئی کھیپ آرڈر کرنے کی خبروں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے تو کیا اس کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود ہے؟

امریکی فضائیہ کی جانب سے برسوں بعد بغیر روایتی مسابقتی ٹینڈر کے یہ بھاری بم خریدنے کا فیصلہ ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کے حوالے سے تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

زیرِ زمین تنصیبات، سب سے بڑا چیلنج

ایران کی بعض جوہری تنصیبات پہاڑوں کے اندر یا زمین کی گہرائی میں تعمیر کی گئی ہیں، جنہیں روایتی بموں سے نشانہ بنانا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں بنکر بسٹر بموں کا مقصد گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ہتھیار ہونا کافی نہیں، اصل سوال انٹیلی جنس کی درستگی اور اہداف کی حقیقی ساخت سے متعلق معلومات کا ہے۔

ایک دفاعی مبصر کے مطابق، “یہ محض ہتھیاروں کی تعداد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک انٹیلی جنس ریس ہے — کون کس کی دفاعی اور حملہ آور حکمت عملی کو بہتر سمجھتا ہے۔”

عسکری صلاحیت بمقابلہ سیاسی فیصلہ

تجزیہ کار اس سوال کو دو زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پہلا، کیا امریکا کے پاس تکنیکی اور عسکری طور پر اتنی صلاحیت ہے کہ وہ انتہائی مضبوط اور گہرے بنکرز کو تباہ کر سکے؟ دوسرا، کیا اس قسم کی کارروائی ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روک پائے گی یا صرف وقتی تاخیر کا سبب بنے گی؟

ماضی میں امریکی B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے ان بھاری بموں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی ممکنہ آپریشن کا انحصار فضائی برتری، میزائل دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنانے اور خطے میں ردعمل کے خدشات پر ہوگا۔

سفارتکاری یا طاقت کا استعمال؟

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی اسلحہ خریداری ایک طرف سفارتی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہو سکتی ہے، تو دوسری جانب یہ ممکنہ عسکری تیاری کا اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔

حتمی سوال برقرار

حتمی طور پر یہ سوال اب بھی کھلا ہے کہ کیا صرف بنکر بسٹر بم ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، “فوجی طاقت سے کسی پروگرام کو سست تو کیا جا سکتا ہے، مگر اسے مستقل طور پر ختم کرنا ایک پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج ہوتا ہے۔”

آنے والے ہفتے اور مہینے یہ واضح کریں گے کہ واشنگٹن اس معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے یا عسکری آپشن کو سنجیدگی سے زیرِ غور رکھے ہوئے ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button