
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک ہوٹل کو ڈرون حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد دو امریکی دفاعی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ایک سفارتی مراسلے میں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ حملے میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) سے وابستہ دو ملازمین مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ شہر کے ایک مرکزی علاقے میں واقع ہوٹل پر کیا گیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابھی تک کسی گروہ یا ملک کی جانب سے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، تاہم بعض ذرائع نے اسے ایرانی ڈرون حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے واقعے کے بعد اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے منامہ کے ہوٹلوں سے گریز کی ہدایت کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر مزید حملوں کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی موجودگی کے باعث سکیورٹی خدشات پہلے ہی بڑھ چکے تھے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی اہلکار براہِ راست نشانہ بنے ہیں تو یہ کشیدگی میں ایک نمایاں اضافہ تصور کیا جائے گا۔ خلیجی خطے میں جاری فوجی تناؤ کے تناظر میں ایسے واقعات نہ صرف سکیورٹی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تاحال امریکی یا بحرینی حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ جاری نہیں کی گئی، تاہم صورت حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

امریکی سفارت خانے کی ہنگامی وارننگ
واقعے کے فوری بعد منامہ میں قائم امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے ایک ہنگامی سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔
- بڑی ہدایت: امریکی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منامہ کے تمام ہوٹلوں میں قیام یا وہاں جانے سے مکمل گریز کریں۔
- وجہ: سفارتی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسی نوعیت کے مزید حملے کیے جا سکتے ہیں جن کا ہدف امریکی تنصیبات یا اہلکار ہو سکتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تناظر
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج میں پہلے ہی ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل کویت کے سالم ایئربیس اور عراق کے اربیل بیس پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اب براہِ راست امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔



