
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں ایران سے منسلک حملوں کے خدشات کے درمیان متعدد ڈرون اور میزائل حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق بدھ کی صبح کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک فیول ٹینک کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نقصان صرف مادی نوعیت کا ہے۔
اسی دوران کویتی نیشنل گارڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں کم از کم 5 ڈرونز کو مار گرایا۔ حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کویت کے اہم آئل ریفائنری کمپلیکس "مینا الاحمدی” میں بھی ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، جس نے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کویت ایئرپورٹ اور دیگر تنصیبات پر حملوں کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
کویتی فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17 میزائل اور 13 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا، تاہم ان حملوں کے باعث کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور آئل تنصیبات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ سعودی سول ڈیفنس نے ریاض کے قریب الخرج علاقے میں سائرن بھی بجا دیے، جس سے ہنگامی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے آنے والے 5 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرونز کو ناکام بنایا۔ اماراتی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں میزائلوں اور ہزاروں ڈرونز کو روکا جا چکا ہے، جو خطے میں جاری خطرے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ حملے اسی طرح جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے ہوں گے۔



