امریکاتازہ ترین

آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ: چین نے جنگی جہاز بھیجنے سے متعلق خاموشی اختیار کر لی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
چین نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کے امریکی مطالبے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور اس سے عالمی استحکام اور اقتصادی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں چین سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بحری جہاز تعینات کریں۔ ٹرمپ کے مطابق چین کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کی بڑی مقدار میں تیل اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے اسے اس راستے کی سکیورٹی یقینی بنانے میں مدد کرنی چاہیے۔

تاہم چینی وزارت خارجہ نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا کہ آیا بیجنگ کو امریکا کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مستقبل میں ملاقات کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

امریکا نے چین کے علاوہ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے بھی آبنائے ہرمز میں بحری تعاون کی اپیل کی ہے۔ یہ اہم سمندری گزرگاہ عالمی تیل تجارت کے لیے نہایت اہم ہے اور اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی عالمی سپلائی بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اس بحران کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے پر زور دے رہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button