(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور مسلسل فضائی حملوں کے بعد خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے، جسے خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک، جو طویل عرصے سے امریکی ہتھیاروں کے بڑے خریدار رہے ہیں، اب جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے جدید میزائل دفاعی نظام اور نسبتاً کم قیمت ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد تیزی سے دفاعی صلاحیت کو بحال کرنا اور کسی ایک ملک پر انحصار کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں شدید فضائی حملوں نے فضائی دفاعی نظام کے ذخائر کو کافی حد تک متاثر کیا، جس کے بعد فوری طور پر دوبارہ اسلحہ حاصل کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور حملوں کے تبادلے نے خلیجی ممالک کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
متحدہ عرب امارات میں ایک حالیہ واقعے، جہاں ایک حملے کے بعد دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آگ بھڑک اٹھی، نے اس خطرے کو مزید نمایاں کر دیا۔ ایسے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں دفاعی نظام کو جدید اور مؤثر بنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
اگرچہ امریکہ اب بھی خلیجی ممالک کا اہم دفاعی شراکت دار ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی فراہمی میں تاخیر، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست نے ان ممالک کو نئے سپلائرز کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے جدید دفاعی نظام اور برطانیہ کے کم لاگت میزائل اس سلسلے میں خاص طور پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں عالمی اسلحہ مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، جہاں خلیجی ممالک زیادہ متنوع اور لچکدار دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف خطے کی سکیورٹی بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال کو ایک نئی دفاعی دوڑ کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خلیجی ممالک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تیزی سے فیصلے کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر نئے دفاعی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔