ایرانتازہ ترین

عالمی دباؤ کے باوجود ایران ڈٹا رہا، کیا راز ہے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران پر شدید امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود اس کی حکومت کا قائم رہنا ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سخت گیر نظام اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹتے، چاہے ان پر بیرونی طاقتوں کی جانب سے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ڈالا جائے۔

رپورٹس کے مطابق تنازع کے آغاز سے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایرانی حکومت جلد گر جائے گی، یہاں تک کہ حالیہ دنوں میں ایران کو مکمل تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ تاہم عملی صورتحال اس کے برعکس رہی، جہاں ایران نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک شدید فضائی حملوں کا مقابلہ کیا اور آخرکار جنگ بندی تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے ممالک کی طاقت صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور داخلی کنٹرول پر بھی مبنی ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اندرونی سطح پر سخت گرفت، احتجاجی تحریکوں کا فوری خاتمہ اور سکیورٹی اداروں کی مضبوطی ایسے عوامل ہیں جو نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تہران میں حالیہ سرکاری تقریبات اور فوجی شخصیات کے جنازوں میں سخت سکیورٹی انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کسی بھی قسم کی داخلی بغاوت کو روکنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی سطح پر اختلاف رائے کو محدود رکھنا بھی ایسے نظاموں کی بقا کا ایک اہم سبب ہوتا ہے۔

دوسری جانب ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن بھی اسے ایک اہم برتری دیتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے عالمی اہمیت کے سمندری راستے پر اثر و رسوخ۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ایران اس اہم گزرگاہ پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جو عالمی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق تاریخ بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ سخت گیر حکومتیں بیرونی دباؤ کے سامنے جلدی نہیں جھکتیں، بلکہ اکثر ایسے حالات میں مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ ایران کی موجودہ صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں فوجی دباؤ کے باوجود سیاسی استحکام برقرار رہا۔

یہ پیش رفت عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے کسی نظام کو تبدیل کرنا کتنا ممکن ہے۔ ایران کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button