ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت انتباہ، فوجی جہاز برداشت نہیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جانب کسی بھی فوجی جہاز کی پیش قدمی کو امریکہ کے ساتھ طے پانے والی عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ مکمل طور پر ایران کی بحریہ کے کنٹرول اور نگرانی میں ہے، جہاں "سمارٹ مینجمنٹ” کے تحت صورتحال کو قابو میں رکھا جا رہا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ غیر فوجی جہازوں کو مخصوص قواعد کے مطابق محفوظ گزرنے کی اجازت ہے، تاہم کسی بھی عسکری سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ سخت مؤقف دراصل خطے میں اپنی برتری قائم رکھنے اور ممکنہ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے یا جھڑپ سے کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

حالیہ انتباہ کو ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ایران جنگ بندی کے باوجود اپنے حساس سمندری حدود میں کسی بھی عسکری نقل و حرکت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جس سے آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button