(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا، جس کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات ایک بار پھر مشکل مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی حکام اور ماہرین کے مطابق کئی ہفتوں تک جاری شدید بمباری کے باوجود ایران کے پاس اب بھی وہ بنیادی صلاحیت موجود ہے جس کے ذریعے وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی پوزیشن میں رہ سکتا ہے۔ خاص طور پر نطنز جیسے اہم جوہری مراکز کو نقصان تو پہنچا، مگر مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔
اسی تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ امریکہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ایران کی جوہری خواہشات ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو تہران سے ایسی ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال نہیں کرے گا۔
ادھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات بھی کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے، خاص طور پر جوہری پروگرام کے معاملے پر۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنی جوہری صلاحیت کو برقرار رکھنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں دباؤ برقرار رکھنا اور علاقائی طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اسے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام رہے تو پابندیوں میں مزید سختی یا نئے عسکری اقدامات کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔