
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ترکیہ کے صدر Recep Tayyip Erdogan نے الزام عائد کیا ہے کہ Israel عالمی توجہ کے دیگر بحرانوں کی طرف منتقل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین مسئلے کے دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انقرہ میں غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے قیام میں سنجیدہ نہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران کے باوجود اسرائیلی حملے اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ Gaza Strip میں انسانی امداد کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران غزہ میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
اردگان نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہاں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی کے واقعات سے خطے میں امن کے امکانات مزید کمزور ہو رہے ہیں۔

ترکیہ کے صدر نے اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ Iran کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات پورے خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اردگان نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل صرف سفارتی مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہمیشہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اس کردار کو جاری رکھے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ نے ایران اور دیگر علاقائی ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ترکیہ کی سمت آنے والے بعض بیلسٹک خطرات کو بروقت ناکام بنایا گیا اور اس حوالے سے ضروری سفارتی پیغامات بھی پہنچا دیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری تنازعات کو بروقت سفارتی طریقے سے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



