
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مسقط: عمان کی سمندری سیکیورٹی اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب خَصب بندرگاہ کے نزدیک ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق پلاؤ کے پرچم تلے چلنے والا آئل ٹینکر “اسکائی لائٹ” مسندم کے ساحل سے تقریباً پانچ بحری میل کے فاصلے پر حملے کا نشانہ بنا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز میں سوار تمام 20 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ چار کارکن زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیجی خطے میں ایران اور امریکہ۔اسرائیل کشیدگی عروج پر ہے۔ اس سے قبل عمان کی بندرگاہ دُقم پر بھی ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس میں ایک کارکن زخمی ہوا تھا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تحقیقات جاری
عمانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مزید تفصیلات فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ابھی تک حملے کی ذمہ داری کسی فریق نے قبول نہیں کی۔

عالمی بحری کمپنیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ صورتحال بدستور حساس ہے اور مزید پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
عمانی بندرگاہ ‘دقم’ پر ایرانی ڈرون گر گئے
سمندر میں ٹینکر کو نشانہ بنانے سے قبل، عمان کی ایک اور اہم بندرگاہ ‘دقم’ (Duqm) پر ایرانی ڈرونز کے گرنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ اس حملے میں ایک کارکن کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایران ان حملوں کے ذریعے خلیجی ممالک کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر حملے جاری رہے تو وہ پورے خطے کی تجارتی اور بحری نقل و حرکت کو مفلوج کر دے گا۔
عالمی تجارت پر اثرات اور تشویش
آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کا عدم استحکام عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان حملوں کے بعد سمندری بیمہ (Marine Insurance) کی قیمتوں میں اضافے اور تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اومی میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر صورتحال کی "لمحہ بہ لمحہ” نگرانی کر رہا ہے اور متاثرہ ٹینکر سے ہونے والے ممکنہ تیل کے رساؤ کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



