تازہ ترینترکی

ترک صدر اردوان کا دوٹوک مؤقف، فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے گا اور عوام کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

عیدالفطر کے موقع پر جاری ویڈیو پیغام میں ترک صدر نے کہا کہ “ہم اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے خلاف بھرپور ردعمل دیں گے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے رہیں گے۔”

غزہ اور خطے کی صورتحال پر تشویش

اردوان نے غزہ کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام شدید حالات میں عید منا رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی حملے اور امداد کی بندش نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ اور اس کے ردعمل میں ہونے والے حملوں نے خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ترکی کی سکیورٹی اور علاقائی کردار

ترک صدر نے کہا کہ ترکی اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے مکمل طور پر مستعد ہے اور 8 کروڑ 60 لاکھ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شمالی شام کے مسئلے کو حل کرنے کے بعد ترکی کو درپیش کئی سکیورٹی خدشات کم ہوئے ہیں، اور ملک “دہشتگردی سے پاک ترکی” کے ہدف کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔

معیشت اور توانائی کے چیلنجز

اردوان نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ترکی کی معاشی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں ملک نے 3.6 فیصد معاشی ترقی حاصل کی اور او ای سی ڈی ممالک میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ترکی کے مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 200 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔

آبنائے ہرمز اور عالمی اثرات

صدر اردوان نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیوں نے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

عیدالفطر کا پیغام

اپنے پیغام کے اختتام پر ترک صدر نے عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے امن، استحکام اور خوشحالی کی دعا کی۔

مجموعی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی اس وقت ایک متوازن پالیسی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف وہ اپنی سکیورٹی کو یقینی بنا رہا ہے اور دوسری جانب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکی کا کردار خطے میں مزید اہم ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button