
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
یورپ ایک نئے توانائی بحران کے دباؤ میں آ کر دوبارہ نیوکلیئر توانائی کی طرف رجوع کرنے پر غور کر رہا ہے، جہاں بڑھتی قیمتوں اور گیس کی قلت نے پالیسی سازوں کو مشکل فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور سپلائی میں غیر یقینی صورتحال نے یورپی ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور عالمی کشیدگی کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق نیوکلیئر توانائی ایک ایسا ذریعہ ہے جو بڑے پیمانے پر مسلسل اور نسبتاً کم لاگت بجلی فراہم کر سکتا ہے، اور اس میں کاربن اخراج بھی کم ہوتا ہے، جو ماحولیاتی اہداف کے لیے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی یورپی ممالک اب دوبارہ نیوکلیئر پلانٹس کی بحالی یا نئے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم اس کے ساتھ خدشات بھی موجود ہیں۔ نیوکلیئر توانائی کے حوالے سے حفاظتی مسائل، فضلہ کے انتظام اور بھاری لاگت جیسے عوامل اب بھی بحث کا مرکز ہیں۔ کچھ ممالک، جیسے جرمنی، پہلے ہی نیوکلیئر توانائی کو مرحلہ وار ختم کر چکے ہیں اور وہ اس پالیسی کو تبدیل کرنے میں محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب فرانس جیسے ممالک، جو پہلے سے نیوکلیئر توانائی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس بحران کے دوران نسبتاً بہتر پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ اس فرق نے یورپ کے اندر توانائی پالیسی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں یورپ کو ایک متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں قابلِ تجدید توانائی، نیوکلیئر پاور اور دیگر ذرائع کا مناسب امتزاج شامل ہو، تاکہ توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ توانائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اور سیاسی چیلنج بھی بن چکی ہے، جس کے اثرات یورپ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔



