
(تازہ حالات رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اندازہ لگایا ہے کہ چین نئی نسل کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے CNN کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا، جس میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سنہ 2020 میں چین کی جانب سے کیا گیا ایک خفیہ دھماکا خیز تجربہ اس سمت میں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2020 میں ہونے والے اس مبینہ تجربے کی تفصیلات طویل عرصے تک منظر عام پر نہیں آئیں۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی محکمہ خارجہ کے بعض عہدیداروں نے اس ٹیسٹ کے وجود کی تصدیق کی، تاہم اس کے مقاصد کے بارے میں باضابطہ طور پر زیادہ معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بیجنگ جدید ترین جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت ایک ہی میزائل پر متعدد چھوٹے جوہری وارہیڈ نصب کرنے کی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر چین اس ٹیکنالوجی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا جوہری ذخیرہ نہ صرف عددی اعتبار سے بلکہ تکنیکی سطح پر بھی نمایاں طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے چین عالمی جوہری طاقتوں، یعنی امریکہ اور روس، کے ہم پلہ یا بعض پہلوؤں میں ممکنہ طور پر ان سے آگے بھی جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ چین مبینہ طور پر کم شدت (Low-Yield) کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر بھی تحقیق کر رہا ہے۔ ایسے ہتھیار عموماً محدود ہدف کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں علاقائی تنازعات کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تائیوان کے گرد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید لچکدار بنانا چاہتا ہے۔

چین نے ان دعوؤں پر باضابطہ طور پر تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ماضی میں وہ اپنے جوہری پروگرام کو “دفاعی نوعیت” کا قرار دیتا رہا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی دہراتا آیا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایشیا پیسیفک خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات عالمی سلامتی کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ آنے والے مہینوں میں اس معاملے پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی سطح پر مزید کشیدگی یا مذاکرات، دونوں امکانات موجود ہیں۔



