
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکہ کشیدگی کے دوران بعض مغربی تجزیہ کاروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیجی خطے میں امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے میں ایران کی بڑھتی ہوئی درستگی کے پیچھے ممکنہ طور پر روسی انٹیلی جنس تعاون کا کردار ہو سکتا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اب خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں، فوجی طیاروں اور اڈوں کی نقل و حرکت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں ٹریک کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بہتری کی ایک وجہ ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا خفیہ معلومات کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً ایک سال قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک 20 سالہ اسٹریٹجک تعاون معاہدہ طے پایا تھا جس میں دفاعی اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
امریکی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر خطے کے تین ممالک میں نصب تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے ریڈارز کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر ان حملوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں — خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن — کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

تھاڈ نظام امریکی دفاعی کمپنی لاکھ ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ جدید میزائل دفاعی نظام ہے جو مختصر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کی رائے
روس اور ایران کے تعلقات پر تحقیق کرنے والی ماہر نکول گراجیوسکی کا کہنا ہے کہ ایران کے حملوں کے اہداف اور ان کی درستگی میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ روس ایران کو سیٹلائٹ یا دیگر انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہو، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماسکو براہِ راست جنگ میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کے حملوں میں تکنیکی مہارت نظر آ رہی ہے، لیکن اس سے جنگ کا مجموعی توازن فوری طور پر تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔
امریکی اڈوں کو نقصان
رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی 48 گھنٹوں کے دوران کم از کم 9 امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ نقصان کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اب تک سرکاری طور پر چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔
خلیج میں خفیہ نیٹ ورک کا خدشہ
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کو صرف سیٹلائٹ معلومات ہی نہیں بلکہ خلیجی ممالک میں موجود انسانی انٹیلی جنس نیٹ ورک سے بھی مدد مل رہی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے پاس خطے میں معلومات اکٹھی کرنے کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو اہداف کی نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ میں ڈرونز، سیٹلائٹ نگرانی اور انٹیلی جنس تعاون جیسے عوامل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج میں امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کے خلاف حملوں کی درستگی نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔



