
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کیے گئے حملوں کے بعد نہ صرف جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں بلکہ ایرانی قیادت اور سیکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ایران کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت تہران میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ کچھ میزائل حملے شمالی تہران کے علاقے شمیران میں صدارتی محل کے قریب اور ان مقامات کے آس پاس ہوئے جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
خبر ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے وقت خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم اس کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آیت اللہ خامنہ ای کون ہیں؟
86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر ہیں۔ وہ ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا عہدہ ملک کا سب سے بااختیار منصب سمجھا جاتا ہے، جو حکومت، عدلیہ اور مسلح افواج سمیت ریاست کے تمام اہم اداروں پر حتمی اختیار رکھتا ہے۔

ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام میں سپریم لیڈر کو مذہبی اور سیاسی دونوں حوالوں سے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہیں اور ملک کی خارجہ و دفاعی پالیسیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
وہ ممکنہ ہدف کیوں بن رہے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں کا مقصد ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے پر دباؤ بڑھانا اور جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کو سخت پیغام دینا ہو سکتا ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ خامنہ ای کو "بہت فکر مند ہونا چاہیے” اور انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
اگرچہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے براہِ راست ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کھلی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے ایران کی اعلیٰ قیادت کو تنہا کرنے یا کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اسے بعض ماہرین "ڈی کیپیٹیشن اسٹریٹجی” یعنی قیادت کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی قرار دیتے ہیں۔
خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف جوہری مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
ایران کی قیادت کا مؤقف ہے کہ بیرونی دباؤ سے حکومت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کو محدود دیکھنا چاہتے ہیں۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا یہ حملے کسی بڑے فوجی یا سفارتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے یا فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ آنے والے دن اس کشیدہ صورتحال کی سمت کا تعین کریں گے۔



