
رپورٹ:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں ایران کی جغرافیائی برتری عالمی توانائی منڈی اور بڑی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق تہران اس اہم سمندری راستے میں اپنے جغرافیائی مقام کا فائدہ اٹھا کر عالمی تیل سپلائی اور بحری آمدورفت پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد خلیج سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کئی جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنے یا سفر مؤخر کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ توانائی خریدنے والے ممالک محفوظ راستے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔
دفاعی اور توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث امریکا نے اپنے اتحادی ممالک سے اس راستے کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایک بین الاقوامی بحری اتحاد تشکیل دیا جائے جو جہاز رانی کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مکمل طور پر معمول کی صورتحال بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جغرافیائی پوزیشن اسے اس اہم سمندری گزرگاہ پر خاص اثر و رسوخ دیتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف ایران اور عمان کی ساحلی حدود واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کو اس راستے میں ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ تیل خریدنے والے ممالک اور بڑی طاقتیں اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی اور عسکری اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔



